Sanam Teri Kasam By Romaisa Deniyal Complete Novel
Summer Bundle Ki Booking 19 July Sy Pehly Karwaye And Saath 2 Gifts Free Paye
Storyline
جب ایک غنڈہ معصوم سادہ سی لڑکی سے عشق کر بیٹھے تو اسکا جنونی پیار اور انداز کونسا روپ لے گا بہت ہی انٹرسٹگ اور سپنس رومینس سے بھرپور ناول ابھی خرید کر پڑھے
Sneak Peak
تمہارا شاہ میر ہو صبح تمہارا نکاح ہے پر آج سوہاگ رات میں تمہارے ساتھ مناؤ گا پھر دیکھتا ہو کیا تمہاری پسند تب بھی تمہیں اپنا نام دینے کا حوصلہ خود میں رکھے گی کیا تب بھی وہ تم سے نکاح کرے گا بستر پر اپنا ایک گٹنہ رکھتا وہ مہر کے قریب بڑھنے لگا جب مہر جلدی سے بستر سے نیچے اترنے لگی یہاں سے بھاگنے کی خاطر
مگر شاہ میر اسے بالوں سے پکڑے واپس بستر پر گراتا
خود اپنا جھکاؤ اس پر کرتا ڈر کیوں رہی ہو تمہاری نظر میں مجھ جیسا غنڈہ تم سے محبت نہیں کر سکتا تو پھر ٹھیک ہے اگر تمہیں میرا پیار ہوس لگتی ہے تو آج مجھے اپنا جسم سپرد کر دو جس پر اپنے نام کی چھاپ میں چھوڑ دو لیکن اگر اسکے بعد بھی زین نے تم سے شادی کر لی تو ساری زندگی کے لیے میں تمہارا پیچھا چھوڑ دو گا لیکن اگر ایسا نا ہوا تو تم خود خوشی خوشی مجھ سے نکاح کرو گی خود مجھے دل سے قبول کرو گی مہر کے اردگرد اپنے گٹنوں کے رکھے وہ مہر کی دونوں کلائیوں کو اسکے سر سے اوپر کی جانب کرتا اسے اپنی شرط بتانے لگا
مجھے تمہاری کوئ بھی بات نہیں سننی میں کوئ چیز نہیں ہو جسکا تم استعمال کر لو گے مجھے نفرت ہے تم سے مہر دانتوں کو چباتی بولی
اس وقت تم میری قید میں ہو میرے نیچے لیٹی ہوئ ہو میں تمہارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہو مگر پھر بھی اب تم میری منت کرنے کی بجاۓ مجھ سے نفرت ظاہر کر رہی ہو شاہ میر کو حیرت ہو رہی تھی اس لڑکی پر
تم جیسے لوگ صرف زبردستی کرنا جانتے ہے تم اگر میری عزت لوٹنا چاہتے ہو تو کوشش کر لو مگر آخری سانس تک میں تم سے مقابلہ کرو گی مہر آنکھوں میں آنکھیں ڈال خود پر جھکے اس شخص کو سنا گئ
سچ میں تم کیسے مقابلہ کرو گی مجھ سے شاہ میر کو اسکی بات مزاق لگ رہی تھی مہر کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا ہوا وہ اپنا ہاتھ اسکی شلوار کے اندر لے جانے لگا وہ دیکھنا چاہتا تھا یہ لڑکی آخر کیا کر سکتی ہے
چھوڑو مجھے مہر اپنی ٹانگیں ہلانے لگی وہ آپس میں انہیں باندھنے لگی تھی تاقی شاہ میر اسکے نازک حصوں کو نا چھو سکے مگر شاہ میر پوری طاقت کے ساتھ اسکی رانوں کو چوڑائ میں کھولتا ہوا اسکی ,,,,,, کے ہونٹوں کے بیچ اپنا ہاتھ رکھ گیا
اپنے ایسے حصے پر اس شخص کا ہاتھ لگنا مہر کی جان نکالنے کی وجہ بنا
تم جتنی نازک ہو اتنا مت لڑو مجھ سے میں نہیں چاہتا تم ہارو اور اپنی ہار پر افسوس کرو خود کو بس آج کے لیے میرے سپرد کر دو بہت پیار سے تمہیں پیار جتاؤ گا میں شاہ میر اپنی انگلیاں اسکے کنوارے ,,,,,, کے اندر ڈال گیا مہر کی آنکھوں میں آنسو آنا شروع ہو چکے تھے وہ جیسے چاہیں اسے چھو رہا تھا
Sanam Teri Kasam By Romaisa Deniyal Complete Novel
Click Me And Get Novel
آپ کو دیے گۓ نمبر پر رابطہ کر کے پورے ناول کو خریدنا ہو گا 03003163553 اس نمبر کے واٹس ایپ پر رابطہ کر کے ریفا جان سے خریدیں

No comments