Header Ads

  • Breaking News

    Ziddi Malaika khan Complete Novel

    Ziddi Malaika khan Complete Novel

    Ziddi Malaika khan Complete Novel 

    Storyline

    موسٹ رومنٹک مزے سے بھرپور ناولز ابھی خریدیں

    Sneak Peak 

    کون ہو تم ، کیوں آئے ہو یہاں ، خدا کا واسطہ ہے چلے جاؤ۔۔۔۔

    وہ بھرائے ہوئے لہجے میں کہتی پردے کے قریب جاتی اس پردے کو پکڑے خود کے وجود کو چھپانے لگی ، اسی دوران پردہ پیچھے ہوا اور روشنی اسی طرف آ رہے نواب رستم کے چہرے پر پڑی۔۔۔۔

    آ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔

    انمول کو شدید صدمہ لگا تھا اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی نواب رستم نے اسکی بازو کو کھینچ اپنے قریب کیا اور زبردستی انمول کے لبوں کو اپنے تپ رہے لبوں ساتھ جوڑ کر اسکی سانسوں کو قید کیے وہ مضبوط ہاتھوں سے انمول کی کمر دبوچے اسکے ننگے کولہوں کو دبانے لگا۔۔۔۔

    انمول جو صدمے سے باہر بھی نا نکل پائی تھی اسکی چیخوں اور احتجاج کو رستم اپنی قربت سے ختم کر رہا تھا ، انمول نے بہت کوشش کی خود کو اسکی گرفت سے نکالے اور چیخنے کی خاطر اپنے لبوں کو دور کرنے لیکن رستم تو جیسے عادی تھا عورت پر قابض ہونے کا۔۔۔۔

    وہ انمول کو اسی طرح قابو کیے ہوئے اپنی جیب سے رومال نکال انمول کے منہ میں گھسائے اسکی آواز کو دبا کر ایک ہاتھ سے انمول کے دونوں ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھ سے اپنی پینٹ کی بیلٹ اتار انمول کے دونوں ہاتھوں کو بیلٹ سے باندھ کر اسے بے بس کر گیا ، ہلکی ہلکی سی روشنی میں وہ انمول کے سرخ چہرے اور نم آنکھوں کو دیکھ شیطانی مسکراہٹ کے ہمراہ اسے بیڈ پر دھکیل اپنی شرٹ اتارنے لگا تھا۔۔۔۔

    میں کوئی ریپسٹ نہیں ہوں ، نا ہی مجھے شوق ہے لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کرنے کا ، بس یار کنٹرول نہیں کر پاتا اتنی خوبصورتی دیکھ ، تمہارا یہ حسن ہی تمہارا دشمن ہے۔۔۔۔

    شرٹ کو مکمل اتار فرش پر گراتا اپنی پینٹ کا بھی بٹن کھول وہ بیڈ پر چڑھے انمول کے اوپر ہوتا اپنے ایک ہاتھ سے اسکے گول مٹول نرم ..... پر ہاتھ پھیرتا انمول کے گلابی ...... کو انگوٹھے اور انگلی میں پکڑے دبا گیا تھا ، انمول نے دبی دبی آواز میں چیختے ہوئے ہلنے کی کوشش کی مگر رستم نے اسکے پیٹ کے اوپر دباؤ ڈالے اسے پکڑا تھا۔۔۔۔

    میں جو چاہتا ہوں حاصل کرتا ہوں ، کبھی خود کو ترسایا نہیں میں نے ، بات مانو گی ، ساتھ دو گی تو فائیدہ تمہارا ہی ہے ورنہ حاصل تو تمہیں زبردستی بھی کر لوں گا ، تکلیف تمہیں ہی سہنی پڑے گی۔۔۔۔۔

    اسکے اوپر جھکے کان کے قریب سرگوشی کیے انمول کے کان کی لو کو کاٹتا وہ اسکی گردن کو سونگھنے لگا۔۔۔۔

    یہی خوشبو مجھے پاگل کر رہی ہے ایک ہفتے سے ، یہی نرماہٹ مجھے بے چین کر رہی ہے ، بہت لکی تھا تمہارا وہ شوہر لیکن سالہ کمینہ نکلا تمہارے حسن کو سراہنا نہیں آئے اسے ، کوئی بات نہیں میں اچھے سے اعراز دوں گا تمہیں۔۔۔۔

    انمول کے جسم کو چومتے ہوئے وہ اسکے ہر ایک حصے کی تعریف کر رہا تھا ، ڈھیر سارا پیار کر رہا تھا وہ اسکے بدن سے ، انمول کے ..... کو چوم چوم کر اسکے ...... کو کاٹتے وہ اپنی چھاپ چھوڑ رہا تھا اس پر ، انمول کی سانس رکنے لگی تھی مسلسل رونے سے ، اسکے ہاتھ بیلٹ کی وجہ سے زخمی ہو رہے تھے احتجاج کرنے سے۔۔۔۔

    Ziddi Malaika khan Complete Novel

    Click Me And Get Novel


      آپ کو دیے گۓ نمبر پر رابطہ کر کے پورے ناول کو خریدنا ہو گا 03003163553 اس نمبر کے واٹس ایپ پر رابطہ کر کے ریفا جان سے خریدیں



    Forced Marriage Urdu Novel 








    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad

    ad728